Punjab Govt new plan

The Punjab government has proposed brining the mark-up rate to single digit through a monetary policy announcement which should be made within next 72 hours besides launching a Rs 100 billion new capital investment scheme for supply chain.

The proposal was made by the Punjab government through Punjab Economic Stabilization Package to counter the expected economic loss, unemployment and health issues faced by the province due to the ongoing coronavirus pandemic.

According to the proposed plan, the Punjab government has suggested to the federal government to impose a moratorium for three months on the markup and repayments for the export financing (EFF) to the private sector. Alongside, 100 per cent LC margin requirement should be suspended immediately.

The Punjab government has suggested that all refunds related to sales tax and income tax of all businesses should be paid within next 72 hours.

Additionally, the Point of Sale (POS) initiative launched by the federal government through Federal Board of Revenue (FBR) at retail sector mainly at shopping malls, markets and shops should be postponed till the next fiscal year i.e. 1st July, 2020. Further, the sales tax on all consumer goods should be suspended immediately till the next fiscal year.

All exports have been moved to zero rated for sales tax till 1st July, 2020. To promote investment in the health product manufacturing, the federal government should exempt local health product manufacturers from income and sales tax.

To encourage charities, the tax credit to the charities should be increased to 30 per cent so the corporate sector is motivated to increase registered charities and support the government to cope with the coronavirus situation in the country.

Further, on the utilities side, the Punjab government proposed that the federal government should pass on the declining fuel prices’ full impact to consumers. Besides, the NEPRA should provide a negative fuel adjustment in utilities bills. Commercial electricity bills for the month of March may be paid in a 4-month period and the electricity users of up to 300KW for next 3 months may be paid over 12 months. Goods flow from land-locked provinces must be sustained.

It was pointed out that Punjab is expecting a 3 to 9 per cent loss in its provincial GDP due to coronavirus while unemployment will be on the rise as almost 3-4 million immediate job loss is expected with Rs 600-1800 billion economic activity loss.

In long-term, the province is estimating another loss of more than 700,000 jobs due to coronavirus pandemic.

The steps taken by the Punjab government on economic fronts are including moratorium on all provincial duties, taxes, cesses up to 1st July, 2020. The province has established a Chief Minister’s Collaborative Fund of Rs 5 billion for corona control.

Further, a Rs 12 billion health package has already been released against the federal government’s estimate of Rs 18 billion for first three months.

Additionally, Rs 40 billion social protection package is designed for the first three months, unemployed worker registration and support centers are going to open besides Rs 5 billion SME cost sharing scheme for rehabilitation of the SME sector affected due to coronavirus pandemic.

مسلم سائنسدانوں کا حشر

*مسلم سائنسدانوں کا حشر*

*کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلم سائنس دانوں کا مسلمانوں کے ہاتھوں کیا حشر ہوا ہے ، جن کو مسلمان آج بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے مسلم سائنس دان تھے اور حقیقت میں یورپ نے ان کی کتابیں پڑھ کے اتنی ترقی کی ہے , ان میں سے چار سائنسدانوں کا مختصر احوال پیش خدمت ہے ۔ یقین نہ آئے تو خود تحقیق کر لینا ۔*

*1 . یعقوب الکندی*

*فلسفے ، طبیعات ، ریاضی ، طب ، موسیقی ، کیمیا اور فلکیات کا ماہر تھا ۔ الکندی کی فکر کے مخالف , خلیفہ کو جب اقتدار ملا تو مُلّاؤں کو خوش کرنے کی خاطر الکندی کا کتب خانہ ضبط کر کے اس کو ساٹھ برس کی عمر میں سر عام کوڑے مارے گئے ۔ ہر کوڑے پر الکندی تکلیف سے چیخ مارتا تھا اور اس کے گرد جمع لوگ قہقہہ لگاتے تھے ۔*

*2 . ابن رشد*

*یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اندلس کے مشہور عالم ابن رشد کو بے دین قرار دے کر اس کی کتابیں نذر آتش کر دی گئیں ۔ ایک روایت کے مطابق اسے جامع مسجد کے ستون سے باندھا گیا اور نمازیوں نے اس کے منہ پر تھوکا ۔ اس عظیم عالم نے زندگی کے آخری دن ذلت اور گمنامی کی حالت میں بسر کیے ۔*

*3 . ابن سینا*

*جدید طب کے بانی ابن سینا کو بھی گمراہی کا مرتکب قرار دیا گیا ۔ مختلف حکمران اس کے تعاقب میں رہے اور وہ جان بچا کر چھپتا پھرتا رہا ۔ اس نے اپنی وہ کتاب جو چھے سو سال تک مشرق اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی ، یعنی القانون فی الطب ، حالت روپوشی میں لکھی ۔ اسے بھی گمراہ کن فاسقانہ نظریات کا حامل قرار دیا جاتا تھا۔*

*4 . زکریا الرازی*

  • *عظیم فلسفی، کیمیا دان، فلکیات دان اور طبیب زکریا الرازی کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اسے جُھوٹا ، ملحد اور کافر قرار دیا گیا ۔ حاکم وقت نے سزا دی کہ رازی کی کتاب اس وقت تک اس کے سر پر ماری جائے جب تک یا تو کتاب پھٹ جائے یا رازی کا سر ۔ اس طرح بار بار کتابیں سر پہ مارے جانے کی وجہ سے رازی اندھا ہو گیا اور اس کے بعد موت تک کبھی نہ دیکھ سکا ۔*

___

ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہیں۔ ایسانہ ہوکہ آپکے یا انکے جانے کا وقت آجائے

ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہیں۔ ایسانہ ہوکہ آپکے یا انکے جانے کا وقت آجائے

لیجنڈ “اشفاق احمد” کہتے ہیں:-
ایک فوتگی کے موقع پر میں نیم غنودگی میں کچھ سویا ہوا تھا اور کچھ جاگا ہوا نیم دراز سا پڑا تھا۔ وہاں بچے بھی تھے جو آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچے کی بات نے مجھے چونکا دیا وہ کہہ رہا تھا
کہ”کوئی فوت ہوجائے تو بڑا مزہ آتا ہے۔ ہم سب اکٹھے ہوجاتے ہیں اور سارے رشتہ دار ملتے ہیں “

پھر ایک بچے نے کہا کہ
“اب پتہ نہیں کون فوت ہوگا’
نانا ناصرالدین بوڑھے ہوچکے ہیں’ ان کی سفید داڑھی ہے شاید اب وہ فوت ہونگے۔ اس پر جھگڑا کھڑا ہوگیا اور وہ آپس میں بحث کرنے لگے۔ کچھ بچوں کا موقف تھا کہ پھوپھی زہرا کافی بوڑھی ہوگئی ہیں وہ جب فوت ہونگی تو ہم ان شاءاللہ فیصل آباد جائنگے اور وہاں ملینگے اور خوب کھیلیں گے”

خواتین حضرات!

    میں آپ کو ایک خوشخبری دوں کہ اس بحث میں میرا نام بھی آیا۔ 

میری بھانجی کی چھوٹی بیٹی جو بہت چھوٹی ہے اس نے کہا کہ”نانا اشفاق بھی بہت بوڑھے ہوچکے ہیں “
خواتین و حضرات! شاید میں چونکا بھی اس کی بات سن کر تھا۔ جو میرے حمایتی بچے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ جب نانا اشفاق فوت ہونگے تو بہت رونق لگے گی کیونکہ یہ بڑے مشہور ہیں۔
جب بچوں کا جھگڑا کچھ بڑھ گیا اور ان میں تلخی بڑھنے لگی تو ایک بچے نے کہا کہ”جب نانا اشفاق فوت ہونگے تو گورنر آئیں گے۔
اس پر ایک بچے نے کہا کہ نہیں گورنر نہیں آئیں گے بلکہ وہ پھولوں کی ایک چادر بھیجیں گے کیونکہ گورنر بہت مصروف ہوتا ہے۔ تمہارے دادا یا نانا ابو اتنے بھی بڑے آدمی نہیں کہ ان کے فوت ہوجانے پر گورنر آئیں گے”

وہ بچے بڑے تلخ، سنجیدہ اور گہری سوج بچار کے ساتھ آئندہ ملنے کا پروگرام بنارہے تھے۔ ظاہر ہے بچوں کو تو اپنے دوستوں سے ملنے کی بڑی آرزو ہوتی ہے نا!
ہم بڑوں نے ایسا ماحول بنادیا ہے کہ ہم رشتے بھول کر کچھ زیادہ ہی کاروباری ہوگئے ہیں۔
چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں حالانکہ چیزیں ساتھ نہیں دیتیں۔ ہم جانتے ہیں کہ رشتے طاقتور ہوتے ہیں اور ہم رشتوں کے حوالے سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔

خدا کے لئے کوشش کریں کہ ہم اپنے رشتوں کو جوڑسکیں ایسی خلیج حائل نہ ہونے دیں کہ ملاقاتیں صرف کسی کے فوت ہوجانے کی مرہون منت ہی رہ جائیں کیا ہم ان بچوں کی طرح اس بات کا انتظار کرینگے کہ کوئی مرے پھر ہم مجبوری کے ساتھ لاٹھی ٹیکتے ہوئے یا چھڑی پکڑے وہاں جائیں۔
جب ہم کہیں جائیں تو یہ فخر دل میں ہونا چاہیئے کہ میں ایک شخص سے ملنے جارہا ہوں مجھے اس سے کوئی دنیاوی غرض نہیں ہے۔ اس کے پاس اس لیے جارہا ہوں کہ وہ مجھے بہت پیارا ہے۔ چاہے ہم اس کام کے لیئے کم وقت دیں لیکن دیں ضرور۔
(اشفاق احمد)

Create your website at WordPress.com
Get started